وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer , Karachi

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

دنیا سے ناراض ہوکر
یا پھر اللہ کی پیاری بن کر
ہم کو روتا چھوڑ کر

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

ہم تو چھوٹے تھے ماں
تیرے جگر گوشے تھے ماں
پھر ایسا کیا ہوا ماں
تو کیوں ہم کو چھوڑ گئی ماں

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

گر تو ہمارے درمیاں ہوتی ماں
ہم بھی خوش ہوتے ماں

دوستوں سے ذکر کرتے تیرا
تیری شفقت کا تیری محبت کا ماں

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

تیرے محبت بھرے خوف سے
تیرے ناراض ہونے کے ڈر سے

میں بھی دوستوں کی طرح
گھر لوٹ آتا ، تیرے ڈر سے

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

میرے بچے دادی امی کہہ کر
جب تجھ سے لپٹ جاتے

اپنی دادی امی کا پیار پاجاتے
دادی امی کہاں ہیں
کیسی تھیں یہ نہ پوچھتے نہ پوچھ پاتے

میں اکثر سوچا کرتا ہوں
وہ ہم کو چھوڑ کر کیوں چلی گئی

Rate it:
Views: 1889
03 Nov, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL