وہ ہنساتے رہے ، وہ رلاتے رہے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگوہ ہنساتے رہے ، وہ رلاتے رہے
وہ اشاروں پہ ہم کو نچاتے رہے
ہنس کے محفل میں اُن کا بھرم رکھ لیا
اور فرقت میں آنسو بہاتے رہے
ایک پل میں وہ آ کر چلے بھی گئے
ہم زمانوں سے جن کو بلاتے رہے
آج ان کو بہاروں سے کانٹے ملے
جو خزاؤں میں بھی گل کھلاتے رہے
ہم تڑپتے رہے موجِ طوفان میں
وہ کناروں سے ہم کو بلاتے رہے
نا امیدی کے کنکر لیے ہاتھ میں
ہم منڈیروں سے کاگا اڑاتے رہے
اپنی منزل کا ہم کو نشاں نہ ملا
گرد راہوں میں برسوں اڑاتے رہے
اس کے آثار چہرے پہ آ ہی گئے
راز سینے میں جو ہم چھپاتے رہے
گھاؤ دینا فقط ان کی فطرت میں تھا
پھر بھی دیپک انھیں آزماتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






