وہ ہنسی دیکھ جائے تو کیا بات ھو گی
Poet: Enam-ullah By: Enam-ullah, Vehowa,tunsa shariefوہ ہنسی دیکھ جائے تو کیا بات ھو گی
وہ آنکھیں مل جائیں تو کیا بات ھو گی
اسکی ہنسی پے پھول گرتے ھیں
وہ پھول مل جائیں تو کیا بات ھو گی
اسکی آنکھوں میں شبنم ھے
وھ شبنم مل جائے تو کیا بات ھو گی
اسکے چہرے کو جگنو چمکاتے ھیں
وہ منظر دیکھ جائے تو کیا بات ھو گی
اسکی آواز پہ ھر چیز لہرنے لگتی ھے
وہ آواز دے تو کیا بات ھو گی
اسکی زلفیں بہار لگتیں ھیں
وہ موسم مل جائے تو کیا بات ھو گی
تم نا ملے تو کیا کریں گے تشنہ
تم مل گئے تو کیا بات ھو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






