وہ ہی خدا ہے وہی خدا ہے (٢)
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
افلاک کی رعنائیوں میں
زمین کی پنہائیوں میں
عکس میں پرچھائیوں میں
سمندر کی گہرائیوں میں
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
پھولوں کی کیاریوں میں
بچوں کی کلکلاریوں میں
جھروکوں اور راہداریوں میں
ڈھلوانوں اور ہمواریوں میں
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
پرندوں کی چہکار میں
رنگوں کی بہار میں
حسن میں سنگھار میں
نور کی قطار میں
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
ہواؤں میں وہ فضاؤں میں وہ
دھوپ میں وہ چھاؤں میں وہ
برسات میں وہ گھٹاؤں میں وہ
بہاروں میں وہ خزاؤں میں وہ
سرابوں میں دریاؤں میں وہ
ہر قریہ ہر گاؤں میں وہ
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
کائنات کی حدود میں
محدود میں لامحدود میں
غائب میں موجود میں
شاہد میں مشہود میں
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
ہوش خرد میں مستی میں
بلندی میں اور پستی میں
ہر نگر میں ہر بستی میں
وہ بستا ہے ہر ہستی میں
وہ ہی ہر جگہ پہ جلوہ نما ہے
جہاں بھی دیکھو وہیں عیاں ہے
سب کا ہے اور سب سے جدا ہے
وہ ہی خدا ہے وہ ہی خدا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






