وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیں

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

وہاں لے لوٹنا ہے جست جس گوشے میں کرتے ہیں
ہمیں معلوم ہے پرواز ہم پنجرے میں کرتے ہیں

کوئی صدیاں نہیں لگتیں ہمارے دن بدلنے میں
ہم اپنا فیصلہ بس ایک ہی لمحے میں کرتے ہیں

در و دیوار زنداں سے مخاطب ہو رہے ہیں ہم
وہی کچھ کر رہے ہیں لوگ جو ایسے میں کرتے ہیں

سنی تھی ہم نے بھی شیرینی گفتار کی شہرت
مگر وہ گفتگو کچھ اور ہی لہجے میں کرتے ہیں

بھٹکتے پھر رہے ہیں آج تک اس جرم عصیاں پر
مذمت رہزن و رہبر کی ہم رستے میں کرتے ہیں

یہ صحرا شام تک ساری گلی میں پھیل جاتا ہے
ہم اپنی صبح کا آغاز جس کمرے میں کرتے ہیں

کسی دن ان فضاں میں چہکتے دیکھنا ہم کو
ابھی اس شوق کی تکمیل ہم پنجرے میں کرتے ہیں

Rate it:
Views: 386
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL