وہی خدایا ! تجھ سے صنم سراپا کومل مانگتا ہوں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaوہ پھر سے باہوں میں ہو ایسا پل مانگتا ہوں
یا اے خدایا ! میں گزرا کل مانگتا ہوں
زندگی کی پہیلیوں میں الجھتا جا رہا ہوں ہر دن
میں مال و دولت نہیں پہیلیوں کا حل مانگتا ہوں
خدایا ! میں نے بھلا کونسی مانگی خدائی تجھ سے
میں تو اپنی ہی دعاؤں کا پھل مانگتا ہوں
اداس چہرہ ترا میری روح کو بے چین کرتا ہے
ہونٹوں کی ہنسی تری آنکھوں کا کاجل مانگتا ہوں
بنجر زمین ہے دل کی میری فصلِ اُنس سے
ذرخیزی ، سرسبزی ، برستا بادل مانگتا ہوں
الٰہی ! یا تو لیں میری یہ سراب زندگی
یا دے دو مجھے جو تجھ سے اول مانگتا ہوں
نہال لاکھوں دعاؤں میں اِک نام اُس کا
وہی خدایا ! تجھ سے صنم سراپا کومل مانگتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






