وہی کائنات
Poet: By: Hukhan, karachiپھر سے وفا مانگی ہے
جینے کی دعا مانگی ہے
ترس گیا اس کی ہنسی کو
پھر سے وہ صدا ہم نے مانگی ہے
یاد ہے وہ مسکراہٹ
آنکھوں نے وہی مسکان مانگی ہے
دنیا تھی وہ ہماری
دل نے وہی کائنات مانگی ہے
ہر لمحہ یاد گار تھا
یاد اس کی مانگی ہے
ہر سپنا لگتا تھا سچا
وہی خوشبو کی برات مانگی ہے
ساتھ ہی تو مانگا تھا
کب چاند سے چاندنی مانگی ہے
ہر سو ہے اندھیرا
بس یادوں کی شمع ہی تو مانگی ہے
کب چاہی تھی بادشاہی
چاہت ہی تو اس کی مانگی ہے
خوش رہے وہ خان
یہی دعا اب مانگی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






