ویرانے
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiکر گیا وہ بھی حوالے مجھے ویرانوں کے
روز اٹھتے ہیں جنازے جہاں ارمانوں کے
اس کو معلوم تھا مر جائیں گے آنے والے
شمع جلتی ہی رہی عشق میں پروانوں کے
بعد اس کے مرے گھر میں نہ رہے پھول کبھی
وہ جو اک شان ہوا کرتے تھے گلدانوں کے
اس کی باتوں میں سِحر ہوتا تھا جانے کیسا
" صبح تک دور چلا کرتے تھے پیمانوں کے "
کیسے آنُسو وہ چھپا لیتے ہیں سب سے اپنے
قہقہے سن کے کبھی دیکھو تو دیوانوں کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






