ویراں ہیں بہت دیدہءِ بیتاب کبھی کے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiویراں ہیں بہت دیدہءِ بیتاب کبھی کے
ہم بھول گئے عشق کے آداب کبھی کے
کب عشق کے موسم میں کھلیں گے گلِ راحت
ہوجائے گے جیسے کے تھے سیراب کبھی کے
چرچا ہے سنا جھولیاں بھرتی ہیں وہا پر
اور ہم سے کئے بیٹھے ہیں حجاب کبھی کے
صحرا کی طرح تپتی زباں تھی کہ دکھے وہ
ہم ہوگئے جیسے کے تھے سیراب کبھی کے
میں جرمِ بغاوت کی سزا کاٹ رہا ہوں
تقسیم ہوئے سب میرے احباب کبھی کے
اک عمر گزاری تھی سہارے خواب کے
اب تعبیر کے چکر میں ہیں بے خواب کبھی کے
سائل نے بھی بیچا ہے خدا کہہ کے عقیدہ
سجدے کے بھکاری ہوئے نایاب کبھی کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






