ویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی
Poet: عطاالحسن By: ہارون فضیل, Islamabadویسے تو اس گھر کو اس نے چاہے کم خوشحالی دی
بیٹا بر خوردار دیا اور بیٹی حوصلے والی دی
غصے میں دونوں نے اک دوجے کے ہاتھ کو جھٹکا تھا
اور اب سوچ رہے ہیں پہلے کس نے کس کو گالی دی
کچھ میں خود بھی ہر اک شخص کی باتوں میں آ جاتا ہوں
کچھ ویسے بھی اس نے مجھ کو صورت بھولی بھالی دی
ورنہ کام تھا میرا تو پھولوں سے رزق کمانے تک
پھر اس نے اک باغ کی میرے ہاتھوں میں رکھوالی دی
دھوپ بڑھی تو وہ بھی اپنے اپنے پاؤں کھینچ گئے
میں نے اپنے حصے کی جن پیڑوں کو ہریالی دی
دل نے میری ایک صدا پر دونوں ہاتھوں دان کیا
جب زنبیل محبت نے جذبات سے مجھ کو خالی دی
تو بھی مان گیا اے دوست کہ دریا صرف ڈبوتا ہے
میرے بارے میں دنیا نے تجھ کو خام خیالی دی
پہلے میری آنکھوں سے سرمایہ چھینا نیندوں کا
بدلے میں پھر ہجر نے میری آنکھوں کو یہ لالی دی
وہ ہی دے گا مجھ کو پھر تعمیر اٹھانے کی ہمت
جس نے حسنؔ ان بام و در کو اتنی خستہ حالی دی
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






