ًشجر گرا

Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachi

والدہ کی وفات پر
﴿محمد عثمان جامعی﴾

شجر گرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر گرا
دعا کے چہچہاتے پنچهی
سارے پنچهی
ُاڑ گئے
نہ جانے کس طرف گئے
کدهر گئے
محبتوں کے چاہتوں کے
آشیاں بکهر گئے
وہ آشیاں ،اماں کے وہ سائباں
بکهر گئے
شجر گرا
کہ جس کے نرم و مہرباں سائے میں
بتا رہا تها زندگی
ُجهلستی جلتی دهوپ سے
بچا رہا تها زندگی
شجر گرا
وہ جس کے برگ و بار سے
قدم قدم بہار تهی
وہ جس کی شاخ شاخ
میری ذات کا حصار تهی
شجر گرا
سو اب ہے دھوپ
اور میں
ہے زندگی کا اجنبی سا
ایک روپ
اور میں
 

Rate it:
Views: 505
04 Feb, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL