ُاسی کے خیال میں میں نے ُاسی کو نا دیکھا

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

ُاسی کے خیال میں
میں نے ُاسی کو نا دیکھا

فلک پے دیکھتا رہا چاند رات بھر
جو ُاترا گیلی میں چاند ُاسی کو نا دیکھا

پھولوں کی پتوں سے ۔ کر رہا تھا حال ارسال وہ
جواب حال میں پھول آیا ۔ تو ُاس نے ُاسی کو نا دیکھا

وہ کیسا تھا مریض ۔ جو چپ چاپ بیٹھا رہا طبعیب کے انتظار میں
طبیعب آیا بھی تو ُاس نے ۔ اپنے اک ُاسی مریض کو نا دیکھا

دل کے آنئے میں عکس نظر آ رہا تھا دھندلا سا
مجھے دیکھنے والے نے ۔ اپنے ہی عکس کو آنئے میں نا دیکھا

خبر تک نہ ہوئی دریاوں سے دریا کب مل گئے لکی
جو چلاتا رہا کشتی ُان پے مگر میرے آنسؤں کو نا دیکھا

Rate it:
Views: 506
18 Jun, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL