ُُُُُُُُُُُپاگیزگی کا روپ ۔۔۔۔ دلہن ۔۔۔۔۔
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, AL-KHOBAR (KSA)نازک سی ہتھیلی پے
حنا نے رنگ جمایا ھے
اور جاگتی آنکھوں میں اک
خواب نیا سجایا ھے
مہکتے ھوئے پھولوں کو
گجروں میں پرویا ھے
اور چاند کی لا لی سے
ھونٹوں کو بھگویا ھے
اور مانگ کے ستاروں نے
کیا روپ جگایا ھے
گالوں پہ کنول کھل کے
صبح کو بھی شرمائیں
اور ستاروں کے آنگن میں
حسیں گیسؤ لہرائیں
ماتھے کا حسیں جھومر
قوس و قزح کو بھایا ھے
کانوں میں حسیں بالی
لہراتی ھوئی بل کھائے
اور ناک کا چمکتا موتی
سورج کو بھی شرمائے
کنگن کا حسیں جوبن
ھر چوڑی پے چھایا ھے
چھلا ھے جو انگلی میں
وہ پیا کی نشانی ھے
پاؤں میں تیری پائل
گیتوں کی کہانی ھے
گھونگھٹ میں حسیں چہرہ
پاگیزگی کا سایہ ھے
ماں کی آنکھوں میں
خوشیوں کے ستارے ہیں
اور باپ کی دعاؤں میں
سارے خواب تمہارے ہیں
پیار بہنوں بھائیوں کا
وہ تیرا ہی سرمایہ ھے
نازک سی ہتھیلی پے
حنا نے رنگ جمایا ھے
اور جاگتی آنکھوں میں اک
خواب نیا سجایا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






