ٹوٹ کے برسی برسات

Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOT

ٹوٹ کے برسی برسات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی
مچلے آج پھر جذ بات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

رم جھم رم جھم گرتی بارش کی بوندوں کے سبب
جب سرد ہوئی بہت رات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

کبھی دل کو کبھی جاں کو کبھی میری روح پریشاں کو
پہنچائے زمانے نے صدمات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

لڑکھڑاتے کو سنبھالنا اور کرنا مجھ پہ زلفوں کا سایہ
یاد آئیں تیری وہ نوازشات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

مدت ہوئی ہے اک لمحہ بھی سکوں سے سوئے ہوئے
بگڑ گئے اس قدر حالات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

میرے گھر کی منڈیر پہ بیتھے ہوئے دو پنچھیوں نے امتیاز
کیے محبت کے مذاکرات تو تمہاری کمی محسوس ہوئی

Rate it:
Views: 591
15 Jan, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL