ٹوٹی حسرت کا تقاضہ کیا تھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہر طرف ہجر کا چرچا کیا تھا
ٹوٹی حسرت کا تقاضہ کیا تھا
داستاں عشق بیاں کر دی میں نے
حالتِ کرب کا رونا کیا تھا
درد کو اپنا منانے کے لئے
دل کو وہ رنج تمہارا کیا تھا
رنج و غم کرب و خوشی کڑوی ہے
اور یہ سب سےخدارا کیا تھا
شمع جلتی ہے کسی اور کے لیے
اس کے پہلو میں اجالا کیا تھا
تجھ سے آنکھیں ہے ملانا مشکل
تنکے چننا پڑے سارا کیا تھا
کوسا اس دشمنِ جاں نے جو مجھے
دوست کہنے لگے چرچا کیا تھا
تیرے آنے کی خبر سن بلبل
باغ میں بول تمہارا کیا تھا
اپنے مرنے کی دعا گر مانگوں
اور بھی آئے ہے سوچا کیا تھا
جو بھی تہذیب و تمدن کی یہاں
اس کی آنکھوں کا اشارہ کیا تھا
جو ستائیں تجھے ان کو وشمہ
وہ ستمگر کہے اپنا کیا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






