ٹوٹے خواب

Poet: Muhammad Asif Salyana By: Muhammad Asif Salyana, Faisalabad

اداس چہرہ
بھیگی پلکیں
دریا کے کنارے
ریت پے لکھے وہ کچھ لفظ
ان لفظوں کے ساتھ پروے
وہ سب خواب
جو ہم نےتھے مل کر دیکھے
میں نادان تھا اور وہ انجان
میں نادان کہ اس کے خواب ہیں میرے خواب
وہ انجان کہ خواب کا مواخذ
ساتھ میں جینا ساتھ میں مرنا تھوڑی ہے
پھر ایک شام دریا کے کنارے
راز یہ سارے کھل جاتے ہیں
وہ سب خواب ٹوٹ کے
ریت کے ذروں اور پانی کے قطروں میں
مل جاتے ہیں
میری آنکھ کا بہتا پانی
دیکھ کے اس نے مجھ سے کہا تھا
جن خوابوں کا حاصل رونا
ایسے خھواب پروتے کیوں ہو
گر جو تم نے دیکھ لئے تھے
اب پھر بیٹھ ک روتے کیوں ہو

Rate it:
Views: 885
01 May, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL