ٹھہرنا بھی نہیں ممکن پلٹنا بھی نہیں ممکن
Poet: Dr.Mohammad Munir By: Dr.Mohammad Munir, Abbottabadٹھہرنا بھی نہیں ممکن پلٹنا بھی نہیں ممکن
کہ ایسا وقت آیا ہے بدلنا بھی نہیں ممکن
پلا دو آخری قطرہ مجھے جام محبت کا
کہ اس کےبعد تو ساقی سنبھلنا بھی نہیں ممکن
محبت ہی حقیقت ہے محبت ہی ہے افسانہ
اکثھا بوجھ دونوں کا اٹھانا بھی نہیں ممکن
تیری الفت میں بہتر ہے میں جل کر راکھ ہو جاؤں
کہ اب اس آگ میں رہ کرسلگنا بھی ممکن
منیر اس کے رویوں سے خفا اپنا نہ دل کرنا
کہ حل ترک تعلق سےنکلنا بھی نہیں ممکن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







