پاؤں زخمی ہیں سر کے بل چلتے ہیں

Poet: rabnawaz By: RABNAWAZ, riyadh saudi arab

پاؤں زخمی ہیں سر کے بل چلتے ہیں
چراغ تو ازل سے ایسے ہی جلتے ہیں

یہ لازم نیں کہ مقید ہوں گردش ایام کے
کچھ رات کے سورج صبح کو ڈھلتے ہیں

اگر برسنا ہے تو برسات کی طرح برسو
کہ پھولوں کے ساتھ ساتھ کانٹے بھی پلتے ہیں

سوکھ جاؤ شاخ پہ مگر لڑکھڑانا نہیں
کہ گرنے والوں کو لوگ مسلتے ھیں

شاید اس لیے بھی تاریک ہےشب کا وجود
کہ سورج کےمقابل چراغ لے کے پھرتے ہیں

میں خود بھی گر جاتا ہوں گھر کے ساتھ ساتھ
کیونکہ آنسو اور بارش ایک ساتھ برستے ہیں

فلک بھی جھکا نہیں سکتا ان کے قدافلاک کو
جو لوگ اٹھنے سے پہلے کئی بار گرتے ہیں

Rate it:
Views: 695
16 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL