پانی بن کے آنکھوں سے میں بہنے لگتا ہوں

Poet: Zulfiqar Hamdam Awan By: Zulfiqar Hamdam Awan, Soon Velley Naushahra

جب بھی دل کی باتیں اس سے کہنے لگتا ہوں
پانی بن کے آنکھوں سے میں بہنے لگتا ہوں

خار چبھتا ہے جو کبھی تو چیخ نکل جاتی ہے
حد سے بڑھتا ہے جب دکھ تو سہنے لگتا ہوں

تنہائی کے عفریت جو اکثر دل کو ڈراتے ہیں
تیری یادوں کی سنگت میں رہنے لگتا ہوں

تیرے ہجر کی پاگل لہریں بے کل رکھتی ہیں
سمت بے سمت یونہی اکثر بہنے لگتا ہوں

بھولنے کی جب بھی اس کو کوشش کرتا ہوں
ریت گھروندوں کی مانند میں ڈھنے لگتا ہوں

تیرے وصال کے رنگیں موسم جب سے بچھڑے ہیں
خزاں رتوں کے پیلے کپڑے پہنے لگتا ہوں

تنہائی کے خوف سے اکثر ہول سا جاتا ہوں
الٹی سیدھی باتیں سب سے کہنے لگتا ہوں

Rate it:
Views: 623
14 May, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL