پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے

Poet: Zoya rabnawaz By: Zoya rabnawaz, rawalpindi

پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
کہ جسے اپنی گود میں بڑے پیار سے پالا تھا
کہ جسے بڑے پیار سے چلنا سکھایا تھا
کہ جسکی ننی آنکھوں میں سہانے سپنے بنے تھے

پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
وہ اپنے وجود کی تلاش میں کہیں کھو گئی ہے
اب اسکی آنکھوں میں نہ نیند ھے نہ سپنے
دنیا کی بے رخی نے اس کے پروں کو مسل دیا ہے

پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
آپ کی دعاؤں نے اسے ڈگمگانے نہ دیا ہے
لوٹ آؤ کہ آج بھی اس کی نظر چوکھٹ پر جمی ہے
وہ پکڑ کر ہاتھ آپکا پھر سے اڑنا چاہتی ہے

پاپا دیکھیں نا اپنی ننی تتلی کو کہ وہ ذرہ ذرہ بکھر رہی ہے
 

Rate it:
Views: 589
27 Jan, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL