پاپا کے لاڈلی
Poet: ابّو من By: ابّو من, islamabadوہ دن جب
ربّ کی رحمت
برسی میرے گھر
میں خوش تھا کس کدھر
یوں لگا جیسے نزول ہوا ہے
من و سلویٰ کا
میرے در پر
ہاں وہ تھی !
اک ننھی پریا
جوجنت سے آئی تھی
میرا دل لبھانے
پیارے پیارے گیت سنانے
وہ ننھی پریا جس سے
گھر کا سکوں رہا
وہ آنکھوں کی ٹھنڈک بنی رہی
پاپا کے لاڈلی بنی رہی
ماں کی چہیتی کہلاتی رہی
گھر کے ایک کونے میں
گڈا گڑیا کھیلتی رہی
چھوٹے چھوٹے پلاسٹک کے
برتنوں میں پکاتی رہی
گھر کے صحن میں لٹکتے
رسی کے جھولے لیتی رہی
کبھی وہ کبھی یہ فرمائشیں کرتی رہی
پوری فرمائش پر
پاپا کو پیار کرتی رہی
وہ ننھی پریا
جو گھر کی
بوسیدہ دیواروں کو
دوام بخشنے آے تھی
بےرنگ چمن کو
رنگین کرنے آے تھی
چمن میں عندلیب کی
سہیلی بننے آے تھی
وہ ننھی پریا
اب وقت رخصتی پر ہے
اپنے گھر چلنے کو ہے
دنیا کی ریت پر ہے
الله کے حکم پر ہے
وہ ننھی پریا
میری من و سلویٰ
الله تجھے خوشی دوام بخشے
اپنی رحمتیں سدا بخشے
اب نۓ رشتوں خیال رکھنا
پاپا کا مان رکھنا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






