پتھر
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarپتھر ہوں، مگر میں پتھر اسقدر بھی نہیں
دل دھڑکتا مگر دھڑکتا اسقدر بھی نہیں
کسی کے پیار کے جذبات کو میں نہ سمجھوں
ہوں سنگدل مگر سنگدل میں اسقدر بھی نہیں
تو نے پتھر تو مجھے لکھ دیا مگر پھر بھی
کورا پتھر ہوں، مگر کورا اسقدر بھی نہیں
پتھروں کی زباں ہوتی تو وہ بھی کہ دیتے
ہے یہ پتھر مگر پتھر کا اسقدر بھی نہیں
اللہ کرے کہ جس کی زُلف کا سایہ ملے اُسی کا رہوں
ہوتا ہوں سب کا مگر سب کا اسقدر بھی نہیں
نیت ہو صاف تو منزل سب ہی کو ملتی ہے
ہوتی ہے دُور مگر دُور اسقدر بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






