پتھروں کے شہر میں نفاست نہیں ملتی

Poet: محمد مسعود میڈوز نوٹنگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

پتھروں کے شہر میں نفاست نہیں ملتی
کبھی سنگدل لوگوں سے محبت نہیں ملتی

جنہیں تو نہیں ملتا اُنہیں ملتی تیری ہے عبادت
جنہیں ملتا ہے تو اُنہیں تیری عبادت نہیں ملتی

ضروری نہیں تو چاہے جسے وہ بھی تجھے چاہے
زمانے میں کسی سے کسی عادت نہیں ملتی

جنموں سے تیری تلاش کا سلسلہ ہے مسلسل
کسی سے تیری صورت کسی صیرت نہیں ملتی

یوں تو ملتا ہے ہر روز مجھ سے مسکرا کہ وہ ہمیشہ
بس ایک ہم ہی کو اُس کی زرا سی قربت نہیں ملتی

نہ ڈر اِس قدر تو بدایمانیوں سے اے مسعود
یہاں بدنام ہوئے کبھی کسی کو شہرت نہیں ملتی

Rate it:
Views: 717
09 Mar, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL