پرائے دیس میں کیسی یہ آس ہے وشمہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایہ کس لئے ہے تو اتنی اداس ہے وشمہ
پہن لیا ہے جو کالا لباس ہے وشمہ
وطن سے دور کھلائے ہیں یہ چمن کتنے
پرائے دیس میں کیسی یہ آس ہے وشمہ
دیار غیر میں گو دور ہیں سبھی اپنے
بنے ہوئے ہیں سراپا سپاس ہے وشمہ
مکیں مکاں میں نہ ہوگا تو پھر کہاں ہوگا
یہیں کہیں ہے ترے آس پاس ہے وشمہ
کمی تو کوئی نہیں اجنبی سے دیس میں ،پر
پرائے دیس میں کیسی یہ آس ہے وشمہ
وہ قربتوں کا زمانہ تو کب کا بیت گیا
مجھے تو بھول گیا روشناس ہے وشمہ
سنوارتے تو مقدر بھی کس طرح وشمہ
تجھے بھی زندگی آئی نہ راس ہے وشمہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






