پردیس کا عالم

Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIA

دیس میں رہنے والوں کسی پردیسی سے پوچھوں
کہ دیس کیا ہوتا ہے
اپنوں سے خفا ہونے والوں کسی پردیسی سے پوچھو
کہ اپنوں کا ساتھ کیسا ہوتا ہے
ہر خوشی ہر غم میں بھی اپنوں سے دور رہنا کیسا ہوتا ہیں
پاس جانا چاہوں بھی تو نہ جا سکوں اس دوری کا احساس تبھی ہوتا ہے
اک پردیسی نے کہا میری ماں ہر پل میرے ساتھ رہتی تھی
کیونکہ مجھے اندھرے میں ڈر لگتا تھا
پر آج یہ کیسا منظر ہے آندھی ہیں طوفان ہیں اندھیرا ہے
اور میں اکیلا ہوں
اچانک سے ماں کا فون آگیا ماں نی پوچھا بیٹا کیسے ہو
میں چپ رہا کچھ نہ کہا
کہا تو بس اتنا کہا کہ ماں میں پردیسی ہوں میں پردیسی ہوں
میں ماں سے کیسے کہتا کہ آج سخت اندھیرا ہے
مجھے تنہائی نے آگھیرا ہے
کوئی نہیں ہے اپنا میرے پاس سوائے ان پلوں کے
جو اپنوں کے ساتھ گزارے ہیں
پردیس کا عالم تو وہی جانے جس نے تنہائی میں
اپنوں کی جدائی میں اپنی زندگی کے کچھ پل گزارے ہیں

Rate it:
Views: 767
04 Jan, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL