پرندوں کو شجر لگتے ہیں اچھے
Poet: Farrukh Izhar By: Farrukh Izhar, Karachiپرندوں کو شجر لگتے ہیں اچھے
سبھی کو اپنے گھر لگتے ہیں اچھے
اداسی کا تو یہ عالم ہے اپنی
فسردہ بام و در لگتے ہیں اچھے
حقیقت میں جو کر سکتے نہیں کچھ
انھیں خوابوں کے گھر لگتے ہیں اچھے
فسانوں کو نہ اتنا طول دیجیے
فسانے مختصر لگتے ہیں اچھے
گزر جائیں جو لمحے چاہتوں میں
وہ لمحے عمر بھر لگتے ہیں اچھے
کبھی شام و سحر کرتے ہیں شکوہ
کبھی شام و سحر لگتے ہیں اچھے
ہے آخر آپ میں کیا بات ایسی
جو دل کو اس قدر لگتے ہیں اچھے
سجا پلکوں پہ رکھوں آنسوؤں کو
دیے تو بام پر لگتے ہیں اچھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






