پرواز روح پر جسم گور کی نظر ہو جائے گا
Poet: badar naseer By: badar naseer, lalamusaجس دنیا کو تم اپنا سمجھ بیٹھے ہو چھوڑ جانا ہے
اپنوں نے دو آنسو بہا کر احسان اتار آ نا ہے
زمیں میں دفن کر کے پھول نچھاور کریں گے
اپنوں نے دو آنسو بہا کر بھول جا نا ہے
دعا کرتجھےعدل،امانت،صداقت کا سبق ملے
چراغ فروزاں بن کیونکہ تمہیں سدا جلتے رہنا ہے
نیکی یہ نہیں کہ تم منہ پھیرو مشرق و مغرب
بلکہ تمہیں مسکینوں،یتیموں،مسافروں کے کام آنا ہے
اگر یہ منشور ہے تمہاراتو منزل ملے گی
اپنی زندگی کا خدا کو حساب دینا ہے
پروازروح پر جسم گور کی نظر ہو جائے گا
ابھی وقت ہےخود کو سیدھی راہ پے چلاناہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






