پرچھائی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaآج اپنی ہی پرچھائی کو
رونے سے چپ کراتے رہے
ُاس کے پاس بیٹھ کر
ُاسے گلے سے لگاتے ریے
ُاسے پیار سے بہت سمجھتے رہے
ُاس کے آنسوں کو اپنے
ہاتھوں سے مٹاتے رہے
ُاس کی داستان سن کر ہم
خود کو بھی جلاتے رہے
آج اندھرے میں ملی تو کتنا
دکھ تھا ُاس کے لہجے میں لکی
جسے ہم دن کی ُاجالوں میں
دیکھ کر مسکراتے رہے
وہ مسلسل مجھ سے پوچھتی رہی
کہ آخر کیوں تنہا کر دیا ہیں مجھے لکی
مگر ہم تو ُاس کے ہر سوال کو
باتوں میں ُاجھاتے رہے
وہ پم سے اپنا قصور طلب
کر رہی تھی اور ہم خود کو
بار بار بےگناہ بتاتے رہے
ہنس ہنس کر ہم اپنی ہی ہنسی میں
اپنا درد ُاس سے چھپاتے رہے
جب ُاس نے میرا حال دیکھا تو
اچانک ! خاموش ہو گئی
شاید ! دوران گفتگو ہم
ُاس سے نظریں چراتے رہے
جب وہ تھک گئی تو چیخ ُاٹھی
ُاس اندھری رات میں اور بولی
کہ آخر آج تم شرمندہ کیوں ہو لکی
جب کے تم انسان محبت کر کے
اپنی پرچھائی کو بار بار آزماتے رہے
اگر نہیں ہیں تمہارے پاس
میرے کسی سوال کا جواب تو
کیوں نہیں مجھے چھوڑ دیتے
کیوں زندہ رہ کر مجھے موت
کا بار بار روپ دیکھتے رہے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






