پل میں
Poet: Hukhan By: Hukhan, karachiاچھا چلو آج کوئی کام کرتے ہیں
ہوگیا جینا مشکل
اسے اب آسان کرتے ہیں
جو ہوگئے دردِ زمان میں ہم سے دور
آؤ انھیں پھر سے پاس کرتے ہیں
ستم جو کیا برسوں
انھیں بھی دل سے معاف کرتے ہیں
ہو نہ سکی تیاری جہانِ آخر کی
پھر بھی ہمت کرکے
اسے سلام کرتے ہیں
گر نہ ہو سکا نام تو کیا
آؤ خود کو بدنام کرتے ہیں
گر ہے جرم تجھے چاہنا
ہم یہ جرم بار بار کرتے ہیں
اک ہی تو انکار کیا اس نے
ہم اقرار ہزار کرتے ہیں
ہاں جی لیا صدیاں پل میں
یہ اظہار ہم بار بار کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






