پلکوں پہ خواب ٹہرنے ہی تھے

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbd

پلکوں پہ خواب ٹہرنے ہی تھے
دیپ یادوں کے جلنے ہی تھے

مجھے یقیقں تھا اپنی رفاقت پہ
تیری انا کے بت بکھرنے ہی تھے

میری دعا میں بہت اثر ہے
چراغ جدائی کے بجھنے ہی تھے

جو آنکھیں مسکرانا بھول گئی تھی
ان میں فتح کے موسم مسکرانے ہی تھے
‏
ہمیں دوبارہ ساتھ دیکھکر
دل لوگوں کے جلنے ہی تھے

میری محبت میں بہت طاقت ہے
تجھے سامنے میرے گھٹنے ٹیکنے ہی تھے

آج سے میں ملکہ اور تم غلام ٹہرے
نخرے تو اب تجھے میرے اٹھانے ہی تھے

ایسے نا دوں گی اب کی بار اپنا دل
تنہائی کے سائے چہرے سے مٹانے ہی تھے
 

Rate it:
Views: 483
03 Jun, 2013
More Love / Romantic Poetry