پلکوں کی چلمنوں میں چھپایا ہے آپ نے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپلکوں کی چلمنوں میں چھپایا ہے آپ نے
دھڑکن میں اس طرح سے بسایا ہے آپ نے
بیٹھی ہوئی ہوں آس میں یادوں کی ریت پر
لکھ لکھ کے کئی بار سے مٹایا ہے آپ نے
رکتی نہیں ہے آرزو کی جو فشانیاں
تاروں کے جھمگٹے سے چرایا ہے آپ نے
ہر اک فنا کی راہ سے گزری میں بے دھڑک
طوفاں کو میرے شوق سے ٹا لا ہے آپ نے
پہلے تو احتمال ہی تھا بھول ہو گئی
اُس نے کہی تھی بات جو دہرا ہے آپ نے
اے رشک ناز اب ذرا اٹھکیلیاں نہ کر
دے کر لہو کو تھپکی سلایا ہے آپ نے
اب ڈھونڈ کیا رہے ہو کہ باقی نہیں ہے کچھ
وشمہ کے پاس جو تھا بھلایا ہے آپ نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






