پلکوں کی چھاؤں میں مجھکو تو عجب بات ملی

Poet: ayesh By: ayesh, Peshawar

پلکوں کی چھاؤں میں مجھکو تو عجب بات ملی
سایہ دھوپ سےاور برستی ہوئی برسات ملی

کل تلک ہنستی کھلتی ہوئی معصوم سی کلی
کانٹوں میں گری پڑی ہوئی برباد ملی

چلنےکولوگ چل بسے نہ فرق پڑا کوئی
جہاں پہلےسےبھی کہیں آباد ملی

عشق پہ لکھی گئی ہزارہاداستانوں میں
اپنی داستاں پہ بھی لکھی گئی کتاب ملی

پروانہ جس دردکوسہتےہوئےجان سےگزرگیا
شمع اسی دردمیں جلتی ہوئی بدحال ملی

کبھی دردوآہیں کبھی خوشیوں کی بھی بہاریں
ذندگی خوشی و غم میں لپٹی ہوئی سوغات ملی

نوک زباں تک جو لا نہ سکے تمام عمر
عائش کولکھی ہوئی تیری آنکھوں میں وہی بات ملی

Rate it:
Views: 514
18 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL