پوچھو نہ مجھ سے

Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabad

پوچھو نہ مجھ سے زخم لگا ہے کہاں کہاں
روح تک پکارتی ہے خدارا اماں اماں

کس درجہ لوگ لزت آہ و بکا میں ہیں
سب ڈھونڈتے ہیں ماس کا ٹکڑا بچا کہاں

کتنا کٹھن ہے سانس کا لینا بھی اس لمحے
ڈوری مری حیات کی کٹنے و ہے یہاں

وہ کیا ہؤے جو دوست ہؤے تھے کبھی مرے
پہچانتے نہیں ہیں ملےوھ جہاں جہاں

خود غرضئ رفیق نئ بات تو نہیں
لٹتے ہیں راہروں سے کئی کارواں یہاں

مولا تو تنگ دستئ حالات سے بچا
بکھرے ہں آشیانے کے تنکے یہاں وہاں

طاہر سدا سے تیرے تؤکل پہ تھا فقیر
کب مانگتا تھا تیرے سوا سے یہ ناتواں

Rate it:
Views: 530
19 Sep, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL