پوچھے کوئی تو کیا کہیں کیسی تھی زندگی
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreپوچھے کوئی تو کیا کہیں کیسی تھی زندگی
دن رات اک مدار میں چلتی تھی زندگی
یہ کیا کہ صرف پیٹ کو بھرتے گزر گئی
ہم نے تو کوئی اور ہی سوچی تھی زندگی
اک حسنِ یار تھا کہ جچا چند روز تک
ورنہ تو بے سواد تھی پھیکی تھی زندگی
تقدیر پہ وفا پہ محبت پہ عشق پہ
تھا جن کو ناز ان کی ہی بگڑی تھی زندگی
خوابوں کی سرزمیں پہ بھٹکتی رہی حیات
سایوں کا ہاتھ تھام کے چلتی تھی زندگی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






