پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, Quettaپِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں
کہ غم کی ٹُوٹتی انگڑائِیوں کے بِیچ میں ہیں
یہ شادیانے فقط سرخُوشی کا نام نہِیں
کِسی کی چِیخیں بھی شہنائِیوں کے بِیچ میں ہیں
ہمیں تو خوف سا لاحق ھے ٹُوٹ جانے کا
تعلُّقات جو گہرائِیوں کے بِیچ میں ہیں
یہ جائیداد یہ مال و متاع و مِیراثیں
فساد اِنہی پہ مِرے بھائِیوں کے بِیچ میں ہیں
ہمارا درد بھی اِک، سوچنے کا زاوِیہ ایک
عجِیب ناتے یہ صحرائِیوں کے بِیچ میں ہیں
کِسی کو اوجِ ثُریّا پہ لے چلے تھے مگر
صِلہ مِلا ہے یہی، کھائِیوں کے بِیچ میں ہیں
یہ دِل کا شِیشہ تو ٹُکڑوں میں بٹ چُکا کب کا
ابھی تلک تیری رعنائِیوں کے بِیچ میں ہیں
وفا ھے کیا؟ یہاں مفہُوم کِس کو سمجھائیں
یہی تو دُکھ ھے کہ ہرجائِیوں کے بِیچ میں ہیں
بجا یہ بات کہ لازِم ھے ضبط حسرتؔ جی
مگر یہ آنکھیں کہ پُر وائِیوں کے بِیچ میں ہیں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






