پگھلتے خیال
Poet: Hanif Abid By: Hanif Abid, karachiموسم تو مہربان ہے کلیاں اچھال کے
لمحے کہاں سے لاؤں پگھلتے خیال کے
ممکن نہیں ہے دھوپ کی کھیتی پنپ سکے
گم سم ہے آسمان گھٹاؤں کو پال کے
ہم قافلے سے چھوٹ گئے اتنی دیر میں
پچھتا رہے ہیں پاؤں کا کانٹا نکال کے
عابد ہمارے سامنے آئے کوئی چٹان
پھیلے ہوئے ہیں ہاتھ ہماری کدال کے
More General Poetry
ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے ہر اک گھر میں وہی اک سادہ دل انسان ہوتا ہے
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے
جو سب کے واسطے جیتا ہے، خود قربان ہوتا ہے
اپنی خواہش، اپنی خوشی سب روند دیتا ہے
مگر آخر وہی سب کے لیے نقصان ہوتا ہے
کما کر لاتا ہے جو دن رات سب کے واسطے رزق
اسی کے نام پہ پھر طعنہ بھی آسان ہوتا ہے
جنہیں اس نے سنبھالا تھا سہارا دے کے ہر مشکل
وہی کہتے ہیں یہ بندہ بہت نادان ہوتا ہے
لٹائی جس نے اپنی عمر اور کمائی سب گھر پر
اسی کے حق میں ہر الزام بھی اعلان ہوتا ہے
یہاں رشتے نہیں رہتے، فقط مفہوم رہتا ہے
جہاں مطلب نکل جائے وہی ویران ہوتا ہے
مظہرؔ سچ کہہ دیا تو سب مخالفت میں آ بیٹھے
یہی انجام ہر سچے کا اس جہان ہوتا ہے
MAZHAR IQBAL GONDAL
امن بعد از جنگ ڈر اسرائیل کے ڈنک کا تھا اور بڑی جنگ کا تھا
دھڑکا ٹرمپ کا تھا بدلتے گرگٹی رنگ کا تھا
جزبہ ایران کا ایٹمی سب پہ بازی لے گیا
امید قدرت سے تھی ، دبدبہ عاصم دبنگ کا تھا
محنت ڈار کی تھی شہباز سرکار کی تھی
خزانہ خالی تھا اور آسرا دعاے ملنگ کا تھا
وقت آ گیا امن کا ، شکر ہے میرے خدا کا
ملک ِ پاکستان میں ، معاہدہ مسلم و فرنگ کا تھا
قائم رہے دائم رہے ہمارا ملک پاکستان رہے
گفتارٕ ہے ، نعمان ہے، پر نشہ چاے کی ترنگ کا تھا
دھڑکا ٹرمپ کا تھا بدلتے گرگٹی رنگ کا تھا
جزبہ ایران کا ایٹمی سب پہ بازی لے گیا
امید قدرت سے تھی ، دبدبہ عاصم دبنگ کا تھا
محنت ڈار کی تھی شہباز سرکار کی تھی
خزانہ خالی تھا اور آسرا دعاے ملنگ کا تھا
وقت آ گیا امن کا ، شکر ہے میرے خدا کا
ملک ِ پاکستان میں ، معاہدہ مسلم و فرنگ کا تھا
قائم رہے دائم رہے ہمارا ملک پاکستان رہے
گفتارٕ ہے ، نعمان ہے، پر نشہ چاے کی ترنگ کا تھا
Noman Baqi Siddiqi
لوٹا نہیں ہوں اپنا میں کردار بیچ کر لوٹا نہیں ہوں اپنا میں کردار بیچ کر
آیا ہوں بیعتوں کو میں انکار بیچ کر
مایوس اس قدر ہوا میداں میں ہار کر
جرنیل لوٹ آیا ہے تلوار بیچ کر
کیا ہے قدر زبان کی یہ اُن سے جانیے
روٹی کما رہے ہیں جو گفتار بیچ کر
اُس کو خبر ہی نہ تھی مکاں اس کا جل گیا
گھر کو پلٹ رہا تھا جو اخبار بیچ کر
گھاٹے کا سودا کر لیا ہے جانتے نہیں
جو تاج لے کے آئے ہیں دستار بیچ کر
ہم قافلے کی گرد کو تھامے کھڑے رہے
منزل پہ آ گئے ہیں وہ سالار بیچ کر
فرصت کے لمحے تجھ پہ گنوائے ہیں کس لیے
پچھتا رہا ہوں اپنے میں اتوار بیچ کر
بچوں کو دل کے ٹکڑے کھلاتے ہیں اصل میں
گھر کو چلا رہے ہیں جو اشعار بیچ کر
پختہ عزم ہے پہنچیں گے منزل پہ لازمی
پیدل ہی چل پڑے ہیں جو رہوار بیچ کر
آیا ہوں بیعتوں کو میں انکار بیچ کر
مایوس اس قدر ہوا میداں میں ہار کر
جرنیل لوٹ آیا ہے تلوار بیچ کر
کیا ہے قدر زبان کی یہ اُن سے جانیے
روٹی کما رہے ہیں جو گفتار بیچ کر
اُس کو خبر ہی نہ تھی مکاں اس کا جل گیا
گھر کو پلٹ رہا تھا جو اخبار بیچ کر
گھاٹے کا سودا کر لیا ہے جانتے نہیں
جو تاج لے کے آئے ہیں دستار بیچ کر
ہم قافلے کی گرد کو تھامے کھڑے رہے
منزل پہ آ گئے ہیں وہ سالار بیچ کر
فرصت کے لمحے تجھ پہ گنوائے ہیں کس لیے
پچھتا رہا ہوں اپنے میں اتوار بیچ کر
بچوں کو دل کے ٹکڑے کھلاتے ہیں اصل میں
گھر کو چلا رہے ہیں جو اشعار بیچ کر
پختہ عزم ہے پہنچیں گے منزل پہ لازمی
پیدل ہی چل پڑے ہیں جو رہوار بیچ کر
Ahmad sajjad
یہ پروردہِ افسانے حقیقت خاک مانیں گئے یہ پروردہِ افسانے حقیقت خاک مانیں گئے
یہ ہر مشکل کھڑی کو گردشِ افلاک مانیں گے
محبت ایسا جذبہ ہے جو ظاہر ہو ہی جاتا ہے
ہمیں تم سے محبت ہے یہ ہم بے باک مانیں گے
ذہانت کو پرکھنے کا عجب معیار قائم ہے ؟
جو مشہورِ زمانہ ہے اسے چالاک مانیں گے
بھنّور میں کود کر بچنا تعجب اس میں تھوڑی ہے
جو ان کی آنکھ میں کودے اسے تیراک مانیں گے
جو حالِ دل سمجھنے میں نہ ہو محتاج لفظوں کا
تو حامیؔ اس بشر کو صاحبِ ادراک مانیں گے
انہیں ہم مشورہ دیں گے بلا ہم کون ہوتے ہیں
جو اپنے دل کی نہ مانیں ہماری خاک مانیں گے
یہ ہر مشکل کھڑی کو گردشِ افلاک مانیں گے
محبت ایسا جذبہ ہے جو ظاہر ہو ہی جاتا ہے
ہمیں تم سے محبت ہے یہ ہم بے باک مانیں گے
ذہانت کو پرکھنے کا عجب معیار قائم ہے ؟
جو مشہورِ زمانہ ہے اسے چالاک مانیں گے
بھنّور میں کود کر بچنا تعجب اس میں تھوڑی ہے
جو ان کی آنکھ میں کودے اسے تیراک مانیں گے
جو حالِ دل سمجھنے میں نہ ہو محتاج لفظوں کا
تو حامیؔ اس بشر کو صاحبِ ادراک مانیں گے
انہیں ہم مشورہ دیں گے بلا ہم کون ہوتے ہیں
جو اپنے دل کی نہ مانیں ہماری خاک مانیں گے
سردار حمادؔ منیر






