پھر لوٹ کر نہ آۓ بہاروں کے قافلے

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

پھر لوٹ کر نہ آۓ بہاروں کے قافلے
ہم نے قدم قدم پہ جلاۓ تو تھے دیۓ

بارش کی گنگناتی پھواروں میں بھیگنے
اے کاش کویٔ ہو جو مرے ساتھ چل پڑے

دینا تھا اُس کا ساتھ مجھے ، فرض تھا مرا
وہ بھی تو سارے جگ سے لڑا تھا مرے لیۓ

دیکھا نہ ہم مڑُ کے اُسے پھر تمام عمر
بس ایک پل کو رُک کے لگا تھا جو سوچنے

پتھرا گئی تھی جِس کی نظر اِنتظار میں
کرتا بھی کیا وہ شخص بھلا لے کے آئینے

منزل کی جستجو نے نہ رُکنے دیا کہیں
ٹھکراۓ ہم نے راہ میں جِتنے مقام تھے

اے کاش پھر سے لوٹ کے آئیں خوشی کے دِن
جاگے تمہارے دِل میں محبت مرے لیۓ

Rate it:
Views: 593
25 Jan, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL