پھر اجنبی ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکل رات ایک تتلی
پھولوں سے کہہ رہی تھی
اے ہم نفس مسافر
اے رنگ کے پیامبر
تیرا بھی رنگ فانی
میرا بھی رنگ فانی
تو بھی ہے دو گھڑی کا
میں بھی ہوں چار پل کی
اس دو گھڑی سفر کو
آ یادگار کر دیں
اتنا خمار بھر دیں
اسے بے کنار کر دیں
کہ آنے والے موسم
ہمیں آنسوؤں میں دیکھیں
کبھی خوشبوؤں میں ڈھونڈیں
کبھی کونپلوں میں ڈھونڈیں
کبھی پیار کے مسافر
آئیں جو اس چمن میں
ہمیں یاد کر کے گزریں
ہمیں ہر نخل پہ دیکھیں
اس نازنیں سمے کی
آ وادیوں میں گھومیں
اس بیتتے سفر کی
اک اک ادا کو چومیں
پھر اگلے موسموں کی
تابندگی کی خاطر
جو اب تلک نہاں ہے
اس زندگی کی خاطر
خوابوں کی لے کے چادر
لمحات میں سوجائیں
جو آئی نہیں اب تک
جو بھٹکے کہیں اب تک
آ اس گھڑی کی خاطر
پھر اجنبی ہو جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






