پھر دل میں جو خوشیوں کا سماں ہو تو بتانا ا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھر دل میں جو خوشیوں کا سماں ہو تو بتانا
اخلاص کا جذبہ یہ جواں ہو تو بتانا
دنیا میں محبت سے شناسائی مبارک
مجھ سا بھی کوئی شیریں بیاں ہو تو بتانا
تم میری وفاؤں کے طلبگار رہے ہو
پھر دل میں وہ چاہت کا گماں ہو تو بتانا
ان جھیل سی آنکھوں میں کبھی غور سے دیکھو
دریا کہیں ایسا بھی رواں ہو تو بتانا
جس پیڑ کی دیوار پہ لکھی تھی محبت
اس پیڑ کی چھاؤں میں خزاں ہو تو بتانا
بوسیدہ کتابوں میں یہ کیا ڈھونڈ رہا ہے
ان میں بھی کوئی میرا نشاں ہو تو بتانا
قندیل وفا بن کے سلگتی میں رہی ہوں
وشمہ تری آنکھوں میں دھواں ہو تو بتانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






