پھر سوچ لو
Poet: انور جمال انور By: انور جمال انور , karachiیہ تعلق ریت کی دیوار ہے ، پھر سوچ لو
اتنی شدت سے تمہیں کیوں پیار ہے ، پھر سوچ لو
اس طرف بس میں ہی میں ہوں دوسرا کوئی نہیں
اس طرف ماں باپ ہیں ، سنسار ہے ، پھر سوچ لو
عشق کی بازی ہے دیکھو عشق کی بازی ہے یہ
اور اس میں جیت جانا ہار ہے ، پھر سوچ لو
کون دیکھے گا مرے ہاتھوں میں کتنے پھول ہیں ؟
دشمنوں کے ہاتھ میں تلوار ہے پھر سوچ لو
سادگی تو ختم ہے تم پر مرے معصوم دوست
اور یہ سارا جہاں ہشیار ہے ، پھر سوچ لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






