پھر سے آو بہلا دو نانی اماں
Poet: Pervaiz Altaf Kiyani By: Ghualm Mujtaba Kiyani, Lahore پھر سے آؤ بہلا دو مجھے نانی اماں
کوئی کہانی سنا دو مجھے نانی اماں
تھک گیا ہوں بہت میں گنتے گنتے
ستارے یہ سارے گنوا دو مجھے نانی اماں
وہ جو شیر ہے تمھاری کہانی میں
ویسا ہی بنا دو مجھے نانی اماں
میں تو بس روتا ہی آیا تھا جہاں میں
کیے ہنستے ہیں؟سکھا دو مجھے نانی اماں
جس سے خوش رہیں امی و ابو میرے
ایسا نسخہ کمیا بتا دو مجھے نانی اماں
جس دیس میں رہتی ہیں تمہاری پریاں
وہ دیس بھی دکھا دو مجھے نانی اماں
شہزادہ کہ جس پہ عاشق ہیں پریاں
ملوا دو اُس مجھے نانی اماں
کھا جاوں گا سارا شہد مرتباں کا
کسی شکل یاں سے ہٹا دو مجھے نانی اماں
تو سخی دل ہے تبھی تو میری پیاری
دو چار آنے تھما دو نانی اماں
ہاں اُس آدم خور دہو سے مجھے
اک بار اور ڈرا دو مجھے نانی اماں
میں بھی دیکھوں تو خوشبوؤں کا شہر
کبھی سیر گلستان کرا دو مجھے نانی اماں
مار کر پھونک ایک میری پیشانی پر
دردِ سر سے بچا دو مجھے نانی اماں
ڈرتا ہوں بہت میں ابھی اندھیرے سے
پاس اپنے سلا دو مجھے نانی اماں
اک بار ذرا ہاتھ میرا پکڑ کر
کوئی راہِ صحیح دکھا دو مجھے نانی اماں
مجھے کتنا چاہتیی ہیں دل سے آپ
خود اپنی زبانی بتا دو مجھے نانی اماں
سنا کردوبارہ پیار کی لوری مجھے
وادی خواب میں پہنچا دو مجھے نانی اماں
رکھ کر سر پہ میرے ہاتھ اب پھر
اچھی سی دعا دو مجھے نانی اماں
مجھ بھوکے کو پراٹھی دو آپ پیاری
ساتھ گرم دودھ پلا دو مجھے نانی اماں
تم اب بھی حسیس ہو بڑی نانی اماں
ذرا شرما کے دکھا دو نانی اماں
یہی کہتا رہے گا پر ویز تجھ سے
ماں جیسی ممتا دلا دو مجھے نانی اماں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






