پھر سے مانگی پھول نے خوشبو مری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکِشتِ غم میں پھر عداوت دیکھ کر
دردِ جاں میں اک قیامت دیکھ کر
پیار شبنم کی جبیں پہ آ گیا
آج خوشبو کی عنایت دیکھ کر
پھر سے مہکا تیری یادوں کا چمن
آنکھ میں رنگِ شرارت دیکھ کر
پھر سے مانگی پھول نے خوشبو مری
ہونٹوں پہ میرے حلاوت دیکھ کر
آگہی کیوں ٹھوکریں کھاتی رہی
زندگی کی بادشاہت دیکھ کر
عشق بھی آنکھوں میں ہی چھپتا رہا
اُس کے چہرے کی عدالت دیکھ کر
شہرِ ہجرت آج بھی ویران ہے
رنج و غم کی یہ مسافت دیکھ کر
وشمہ اُس نے مسکراہٹ بانٹ دی
میری آنکھوں میں ندامت دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






