پھر سے پیار کا دھوکا کھایا جا سکتا تھا
Poet: Bashir Badar By: Shazia Hafeez, Attockپھر سے پیار کا دھوکا کھایا جا سکتا تھا
دل کا کیا ہے دل بہلایا جا سکتا تھا
کیوں واپس نہ آیا جا کر وہ نا جانے
لیکن اس کے پاس تو جایا جا سکتا تھا
گر نہ ہوتا موم کی صورت دل اپنا
غم کے سورج سے ٹکرایا جا سکتا تھا
ایک تمہارا ساتھ اگر مل جاتا تو
ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا تھا
لوگوں نے مجرم ٹھہرایا مان لیا
آخر کس کس کو سمجھایا جا سکتا تھا
لے ڈوبا جب آنکھوں کو طوفان بتول
کیسے دل کا شہر بچایا جا سکتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







