پھر ملاقات کی جیسے کہ یہ رشتہ کیا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھر ملاقات کی جیسے کہ یہ رشتہ کیا ہے
دل میں یوں آن بسا، دید کی کہتا کیا ہے
شوخیاں بھول گئے عمر کے ڈھلتے ڈھلتے
آنکھ میں ناچتی معصوم میں رکھا کیا ہے
سب سے مشکل سا لگا، جان کے، عورت ہونا
کچھ بھی پانے کو نہیں، ہے جو ا پنا کیا ہے
زخم اندر ہو یا باہر یہ دکھا سکتی نہیں
عیب تو دور کہیں جسم چھپا کیا ہے
کچھ ہیں باتیں جو اسے سہنا پڑا کرتی ہیں
غیر تو غیر ہیں شوہر سا اچھا کیا ہے
ان کے ایوانوں میں جب بات کرو عورت کی
بات پکڑو جو کہیں بات گھما یا کیا ہے
کوئی انصاف ملے گا اسے اس دنیا میں
کب کہاں جائے ہے اب وشمہ کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






