پھر یوں ہوا
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aپھر یوں ہوا
کہ تم سے ملاقات ہو گئی
انجانے سے سمجھوتے پے
بات ہو گئی
چند لمحوں کی دوستی میں
پا لیا تجھے
برسات کی رم جھم میں
چھولیا تجھے
تیری وہ ہنسی میرے لیے
سوغات ہو گئی
پھر یوں ہوا کہ تم سے
ملاقات ہو گئی
سنوارا توں نے روپ تو
بجلی چمک گئی
دھوپ میں وہ بارش
دل میں اتر گئی
روشن سا اک ستارہ
آنکھوں میں آ گیا
چمکتا ہوا نظارہ
دنیا پے چھا گیا
تیرے لبوں کی شوخی
ساغر میں ڈھل گئی
نازک سی وہ کلی
اک پھول بن گئی
تیرے حسن کی تجلی
خیرات ہو گئی
پھر یوں ہوا کہ
تم سے ملاقات ہو گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







