پھل جائے محبت تو محبت ہے محبت
Poet: منظر لکھنوی By: Anila, Abbottabadپھل جائے محبت تو محبت ہے محبت
اور راس نہ آئے تو مصیبت ہے محبت
سرمایۂ دیوانۂ الفت ہے محبت
اے الٹے ہوئے دل تری قیمت ہے محبت
ہے ہم ہی تلک خیر غنیمت ہے محبت
ہو جائے انہیں بھی تو قیامت ہے محبت
رو رو کے وہ پوچھیں گے مری آنکھ سے آنسو
آئیں گے وہ دن بھی جو سلامت ہے محبت
بدنام کیا لاکھ تجھے خود غرضوں نے
پھر بھی تری دنیا کو ضرورت ہے محبت
دنیا کہے کچھ ہے مگر ایمان کی یہ بات
ہونے کی طرح ہو تو عبادت ہے محبت
ہے جن سے ان آنکھوں کی قسم کھاتا ہوں منظرؔ
میرے لیے پروانۂ جنت ہے محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






