پھول سا اک کھلا کھلا نکلا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپھول سا اک کھلا کھلا نکلا
مسکراتا وہ خوش ادا نکلا
تلخ گو ۔ شوخ ۔ بے ردا چہرہ
شرم سے عاری بے حیا نکلا
برسوں سے جس کو ڈھونڈھتی تھی نظر
شام غم کی جزا عطا نکلا
حسن پر اپنے ہے بہت نازاں
کہہ رہا ہے وہ کج ادا نکلا
آج پورے شباب پر تھا چاند
دکھ گیا خود بخود خفا نکلا
کوشیں لاکھ کیں چھپانے کی
حال دل سارا کہہ گیا نکلا
بات نکلی تھی بے وفائی کی
اڑ گیا کس لئے گلہ نکلا
وجہ ناراضگی تو کچھ بھی نہیں
پھر بھی ہے وہ خغا خفانکلا
دیر سے ڈھونڈھے کچھ خلاؤں میں
ایک معصوم بے صدا نکلا
صاف ستھرا حسن مرا کردار
صاف شفاف آئینہ نکلا
زخم جو روح پر لگا وشمہ
پیار اُس بے وفا سے کیا نکلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






