پھول پھول کی خوشبوءُ بھنورے جانتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiپھول پھول کی خوشبوءُ بھنورے جانتے ہیں
اس چلمن میں پھر باغبان کیا کرتے ہیں
جہاں چاہتیں مڑی وہاں راستوں کی مزاحمت
منزلوں کے اتنے ابھمان کیا کرتے ہیں
ہم نے خوابوں کے محل میں ہی ملن پالیا
ان کے رکھے ہوئے دربان کیا کرتے ہیں
ایمان ہی جس محافظ نہ بن سکا
وہاں محبت کے نگہبان کیا کرتے ہیں
نیند نے تنہائیوں میں ہی رات گذارلی پھر
دیؤں پر جل کے ارمان کیا کرتے ہیں
آخر زخموں کی طبیعت فساد سے مل گئی
مرہم آرزو میں درمان کیا کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






