پھول کتنے چمن میں کھل جائیں
Poet: SYED ISHTIAQ HUSSAIN KAZMI By: waqas shah, RAWALPINDIپھول کتنے چمن میں کھل جائیں
لوگ بچھڑے کبھی جو مل جائیں
حادثے کتنے ہی روز ہوتے ہیں
حالات شاید کبھی بدل جائیں
مجھ سے بچھڑا ہے اس طرح سے وہ
چہرے آئینے سے رخ بدل جائیں
اب تو منزل ہے نہ ہمراہی ہے
کہیں غم دنیا میں ہم بھی ڈھل جائیں
تجھے دیکھیں تو دل یہ چاہتا ہے
حد سے آگے کہیں نکل جائیں
اب مئے خانے کو کیا کریں ساقی
لوگ پیتے ہی جو سنبھل جائیں
داغ دل کے ابھی کچھ باقی ہیں
تو آجا تو یہ بھی دھل جائیں
اشتیاق چراغ جلتے رہیں گے الفت کے
اب دل سے وہ بھی اگر نکل جائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






