پہلے اپنایا خار پھولوں کا
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiسب کو اپنی طرح سمجھتی ہے
یار تو بھی نہ کتنی بھولی ہے
سرخ دیکھے ہیں میں نے لب اس کے
ایسا لگتا ہے خون پیتی ہے
لڑ رہی ہے وہ بے سبب مجھ سے
شکر ہے عشق اب بھی باقی ہے
اس کو سلجھانے میں لگے ہیں سب
شاعری زلف یا پہیلی ہے
کل تلک میں ہی جس کا سب کچھ تھا
آج وہ نام سے بھی چڑھتی ہے
جاتے جاتے وہ کہہ رہی تھی مجھے
کیا کروں یہ خدا کی مرضی ہے
موت تو سر پہ ہے کھڑی کب سے
پہلے اپنایا خار پھولوں کا
تب کہیں پایا پیار پھولوں کا
میں بھی گلشن سمیٹ لایا ہوں
اس نے مانگا تھا ہار پھولوں کا
یاد آتی ہے اس کی مت چھیڑو
ذکر یوں بار بار پھولوں کا
تجھ سے ملنے کے بعد یہ جانا
کون ہے دست کار پھولوں کا
پھیل جا بن کے خوشبو گلشن میں
چھین لے اختیار پھولوں کا
تیرے چھونے سے ہی تو چلتا ہے
آج کل روزگار پھولوں کا
دے کے اظہار عشق کرتے ہیں
اس سے سمجھو وقار پھولوں کا
جب سے عامر عطاؔ ہوا عاشق
چڑھ گیا ہے ادھار پھولوں کا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






